14 مارچ 2014 - 20:30
پاکستان میں سعودی عرب کے ڈیڑھ ارب ڈالر سے پیدا ہونے والا تنازعہ

پاکستانی سینیٹ کے ایک رکن فرحت اللہ بابر نے حکومت نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ سعودی عرب سے دریافت کی گئي مالی امداد کے بارے میں وضاحت پیش کرے۔

ابنا: پاکستانی سینیٹ کے ایک رکن فرحت اللہ بابر نے حکومت نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ سعودی عرب سے دریافت کی گئي مالی امداد کے بارے میں وضاحت پیش کرے۔ ذرائع کے مطابق فرحت اللہ بابر نے سینیٹ کے اجلاس میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ حکومت کو یہ وضاحت دینی ہوگی کہ کیا اس نے سعودی عرب سے مالی مدد لے کر شام کے تعلق سے اپنی پالیسیاں تبدیل کی ہیں۔ فرحت اللہ بابر، حزب اختلاف پیپلز پارٹی کے ایک سینئر رہنما ہیں۔ فرحت اللہ بابر نے سینیٹ کے سربراہ سے مطالبہ کیا کہ وہ سینیٹ کے کھلے اجلاس میں سعودی عرب کی ایک ارب پچاس کروڑ ڈالر کی امداد کے بارے میں تحقیقات کریں۔ پاکستان کے وزیر خزانہ نے بدھ کو کہا تھا کہ پاکستانی حکومت کے خزانے میں ایک ارب پچاس کروڑ ڈالر کی رقم ڈال دی گئي ہے۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ مدد کہاں سے ملی ہے۔ پیپلز پارٹی کے اس رکن نے کہا کہ عوام کو معلوم ہونا چاہیئے کہ یہ مدد کہاں سے آئي ہے اور اس کے لئے کیا شرائط عائد کی گئي ہیں۔ واضح رہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر دفاع سلمان بن عبدالعزیز نے گذشتہ ماہ اسلام آباد کے دورے میں وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کی تھی اور دونوں ملکوں کے مشترکہ بیان میں شام میں عبوری حکومت کی تشکیل پر تاکید کی گئي تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲